preloader
Sat. May 30th, 2026
right-supervisor-at-fast-university
right-supervisor-at-fast-university

پچھلے چند سالوں میں، چاہے میں نے اپنی PhD کے دوران وقت گزارا ہو یا University میں اپنے students کو پڑھایا ہو، ایک چیز میں نے بار بار observe کی ہے۔ ہمارے ہاں اکثر نوجوان اپنی پوری توجہ Degree، CGPA اور Scale پر رکھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے تعلیم کا مقصد صرف ایک Degree حاصل کرنا ہے۔ لیکن جتنا میں نے Academia اور Industry دونوں کو قریب سے دیکھا ہے، اتنا ہی مجھے احساس ہوا کہ Real World کی expectations اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

آج اگر کسی Organization میں Job opening آتی ہے تو وہ صرف Degree holder کو hire نہیں کر رہی ہوتی۔ دراصل وہ ایسے شخص کی تلاش میں ہوتی ہے جو کسی Problem کو سمجھ سکے، Situation کا analysis کر سکے، مختلف چیزوں کے درمیان relationships کو دیکھ سکے اور Organization کی ضرورت کے مطابق value create کر سکے۔

آج کی دنیا میں کوئی بھی Organization صرف ایک محدود کام کے لیے بندہ نہیں رکھتی۔ Companies اور Institutions ایسے لوگ چاہتے ہیں جو System کو سمجھتے ہوں، مختلف departments کے درمیان connections کو دیکھ سکتے ہوں اور اپنی skills کو practical results میں convert کر سکیں۔

میرے خیال میں پاکستان میں مسئلہ صرف unemployment نہیں ہے۔ اصل مسئلہ Education اور Industry کے درمیان موجود gap ہے۔ اکثر نوجوان Degree مکمل ہونے کو learning کا اختتام سمجھ لیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہاں سے اصل learning journey شروع ہوتی ہے۔ Organizations اپنے standards کم نہیں کریں گی کیونکہ انہیں performance، adaptability، professionalism اور problem-solving skills چاہیے ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ gap نوجوان کو خود fill کرنا پڑتا ہے۔

اگر آپ کبھی کسی بڑے Industrialist، Successful Entrepreneur یا کسی بڑی Organization کے Head سے ملیں تو آپ فوراً ایک فرق محسوس کریں گے۔ وہ صرف اپنے field کا ماہر نہیں ہوتا بلکہ پورے System کو سمجھتا ہے۔ اسے Production کا بھی علم ہوتا ہے، Supply Chain کا بھی، Customer Behavior کا بھی، Technology کے impact کا بھی، Internal Operations کا بھی اور External Linkages کا بھی۔ وہ صرف ایک Department نہیں دیکھ رہا ہوتا بلکہ پورا Ecosystem دیکھ رہا ہوتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کے لہجے میں ایک مختلف قسم کا Confidence ہوتا ہے۔ یہ Confidence صرف Position یا Designation سے نہیں آتا بلکہ Exposure، Experience، System Understanding اور مختلف لوگوں کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت سے پیدا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ صرف Technical Topics پر بات نہیں کرتے بلکہ Values، Professionalism، Communication Skills، Teamwork، Leadership اور Conflict Management جیسے موضوعات پر بھی equally comfortable ہوتے ہیں۔

کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا صرف Technical Skills پر نہیں چلتی، دنیا Human Skills پر بھی چلتی ہے۔

Breadth اور Depth کی اہمیت

آج کل بہت سے نوجوان Courses، Certifications اور Degrees کو ہی کامیابی سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ Degree دراصل ایک Structure ہوتی ہے جس کے اندر Breadth اور Depth دونوں شامل ہوتے ہیں۔

Breadth کا مقصد مختلف Domains، Systems اور Disciplines کی understanding develop کرنا ہوتا ہے تاکہ انسان مختلف شعبوں کی language سمجھ سکے۔ جبکہ Depth کا مقصد کسی ایک خاص field میں اتنی expertise پیدا کرنا ہوتا ہے کہ آپ کی professional identity واضح ہو جائے۔

بدقسمتی سے اکثر Students یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ انہیں کوئی Course کیوں پڑھایا جا رہا ہے۔ Mathematics والا Programming کی importance پر سوال اٹھاتا ہے، Computer Science والا Statistics کو unnecessary سمجھتا ہے، Business Student Analytics یا Operations Research کی value کو ignore کرتا ہے، جبکہ AI کا طالب علم Linear Algebra، Probability اور Logic کی relevance سے پوری طرح واقف نہیں ہوتا۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام subjects مل کر ایک مضبوط Intellectual Architecture بناتے ہیں۔

ہمارے Educational Environment کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ نہ Breadth پوری طرح develop ہوتی ہے اور نہ ہی Depth۔ جہاں meaningful exposure دینا چاہیے وہاں superficial coverage ہوتی ہے، اور جہاں mastery develop ہونی چاہیے وہاں اکثر بات introduction سے آگے نہیں بڑھتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ Student کا focus understanding کے بجائے صرف passing exams پر رہ جاتا ہے۔

اور جب کوئی چیز صرف Exam کے لیے پڑھی جائے تو اس کا اصل فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔

میرے نزدیک Breadth آپ کو Entry دیتی ہے جبکہ Depth آپ کو Recognition دلاتی ہے۔ Breadth آپ کو مختلف Industries، Technologies اور Systems کو سمجھنے کے قابل بناتی ہے، جبکہ Depth آپ کی Professional Value create کرتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی بنیاد پر Market آپ کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔

آج کے نوجوان کے لیے چند سوالات

آج کے نوجوان کو صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ Degree کیسے مکمل کرنی ہے۔ اسے خود سے چند اہم سوال بھی پوچھنے چاہییں:

  • میں کس System کو سمجھ رہا ہوں؟
  • میں کون سا Problem solve کر سکتا ہوں؟
  • میں مختلف لوگوں کے ساتھ مؤثر انداز میں کیسے کام کر سکتا ہوں؟
  • میری Learning کسی Organization کی needs کے ساتھ کیسے align ہو سکتی ہے؟
  • میری Professional Identity کیا ہے؟

کیونکہ مستقبل صرف Degree Holders کا نہیں ہے۔

مستقبل ان لوگوں کا ہے جو Systems کو سمجھتے ہیں، Continuous Learning پر یقین رکھتے ہیں، Change کے ساتھ Adapt کر سکتے ہیں، اور Problems کو Opportunities میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Degree آپ کو ایک موقع دیتی ہے، لیکن آپ کی اصل پہچان آپ کی Understanding، Character، Skills اور Value Creation سے بنتی ہے۔

اور شاید یہی وہ فرق ہے جو ایک Degree Holder اور ایک True Professional کے درمیان موجود ہوتا ہے۔

2 thoughts on “Degree، System اور Real World”
  1. Sir, your article truly highlights the challenges of today’s world. A degree alone is no longer sufficient without strong problem-solving skills. Subject-matter and domain experts are increasingly in demand, while entrepreneurs bring the valuable ability to multitask and adapt to diverse challenges as they arise. When it comes to bridging the gap between academia and industry, there is still considerable work to be done. With proper guidance and mentorship, students carry a significant responsibility to continuously develop their skills and stay aligned with evolving industry needs while progressing in their academic journey.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *